بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شام کی مسنون دعاؤں کا افضل وقت

سوال

شام کی مسنون دعاؤں کا افضل وقت مغرب سے پہلے ہے یا مغرب کے بعد؟

جواب

صبح و شام کی دعاؤں سے متعلق مظاہر حق میں لکھا ہے:

’’صبح سے مراد آفتاب طلوع  ہونے تک دن کا بالکل ابتدائی حصہ، شام سے مراد آفتاب کے غروب ہونے کے وقت سے شفق کے غروب ہونے کے وقت تک دن کا بالکل آخری حصہ، لہذا جو دعائیں صبح کے وقت پڑھنے کے لیے منقول ہیں ان کو چاہے کہ نمازِ فجر سے پہلے پڑھا جائے چاہے نماز فجر کے بعد، دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اسی طرح شام کے وقت جن دعاؤ ں کا پڑھنا منقول ہے ان کو بھی چاہے مغرب کی نماز سے پہلے پڑھا جائے یا مغرب کے بعد‘‘۔ (مظاہرِ حق، ج:2، ص:561، ط: دار الاشاعت)

لہذا ان دعاؤں کو مغرب سے پہلے بھی پڑھ سکتے ہیں اور مغرب کے بعد بھی۔ فقط واللہ اعلم

اس حوالے سے مزید فتویٰ دیکھنے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

صبح اور شام کے اذکار کا وقت

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201444
تاریخ18-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں