بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بہتان لگانے اور بلاتحقیق سزا دینے کاحکم

سوال

کسی پر بہتان لگانا اور بغیر تحقیق کے سزا دینا شرعاً   کیسا ہے؟ 

جواب

کسی پر بہتان لگانا شرعی اعتبار سے گناہ کبیرہ ہے، ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے کسی مسلمان کے بارے  میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ تعالی اسےجہنمیوں کی پیپ میں رکھے گا جب تک وہ اس گناہ سے نکل نہ جائے۔(مسند احمد)

نیز  بغیر تحقیق کے سزا دینا ناانصافی اور ظلم کے دائرے میں آتا ہے، اور حدیث پاک میں ہے کہ ظلم قیامت کے دن اندھیریوں کی صورت میں آکر انسان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گا، مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا۔  فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201412
تاریخ16-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں