بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مومن کے جھوٹے میں شفا ہے، حدیث نہیں

سوال

1۔ درج ذیل روایت عام ہے: 

'' مؤمن/مسلمان کے جوٹھے میں شفا ہے''۔برائے کرم کیا یہ حدیث ہے؟ اگر ہے تو حدیث حوالہ کے ساتھ بیان کردیں۔ 

2- کیا بیوی اپنے خاوند کو اس کے نام سے بلا سکتی ہے یانہیں؟ وضاحت فرما دیں!

جواب

۱- ''مؤمن کے جوٹھے میں شفا ہے''۔ ان الفاظ میں کوئی حدیث ثابت نہیں ؛ محدثین نے اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔  دیکھیے: ''المقاصد الحسنہ'' از امام سخاوی رحمہ اللہ 

۲- ہمارے عرف میں بیوی کا شوہر کو نام لےکر پکارنا معیوب سمجھاجاتا ہے، اور اس میں ادب بھی ہے ؛ لہٰذا خاوند کو اس کا نام لے کر بلانے سے احتیاط کی جائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201411
تاریخ16-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں