روزے کی حالت میں مشت زنی کرنا
سوال
کیا مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب
مشت زنی کرنا گناہ ہے، احادیث میں اس پر لعنت اور وعید آئی ہے، لہٰذا یہ فعلِ قبیح ناجائز ہے، چہ جائے کہ روزے میں اس کا ارتکاب کیا جائے، روزہ میں تو اس کی قباحت وشناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔ روزے کی حالت میں مشت زنی کے نتیجہ میں اگر انزال ہوجائے (منی نکل آئے) تو اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے اور اس روزہ کی قضا لازم ہوتی ہے، البتہ کفارہ لازم نہیں ہوتا۔ ''فتاوی شامی'' میں ہے:
''مَطْلَبٌ فِي حُكْمِ الِاسْتِمْنَاءِ بِالْكَفِّ (قَوْلُهُ: وَكَذَا الِاسْتِمْنَاءُ بِالْكَفِّ) أَيْ فِي كَوْنِهِ لَا يُفْسِدُ، لَكِنَّ هَذَا إذَا لَمْ يُنْزِلْ، أَمَّا إذَا أَنْزَلَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ ،كَمَا سَيُصَرِّحُ بِهِ، وَهُوَ الْمُخْتَارُ''. (٢/ ٣٩٩) فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

