بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آبائی گاؤں میں تدفین کی وصیت کرنا

سوال

میرے والد صاحب نے وصیت کی تھی کہ میری تدفین میرے آبائی گاؤں (آزاد کشمیر)ہو، اور ہم سب اس وقت کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔انتقال کے وقت والد صاحب بڑے بھائی کے پاس تھے، اور باقی بھائیوں کو وصیت کا علم نہیں تھا۔اور انتقال کے وقت وصیت پر عمل نہیں ہو ا، اس صورت میں کون فرد ان تمام باتوں کا جواب دہ ہے ؟

جواب

مذکورہ وصیت پر عمل کرنا شرعاً ضروری نہیں تھا، بلکہ آپ کے والد مرحوم کا انتقال اگر آزاد کشمیر سے باہر مثلاً کراچی میں ہوا تو ان کی میت منتقل کرنا اور مذکورہ وصیت پر عمل کرنا شرعاً درست نہیں تھا، لہٰذا اس وصیت پرعمل نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی گناہ گار اور جواب دہ نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 666)

'' أوصى بأن يصلي عليه فلان أو يحمل بعد موته إلى بلد آخر أو يكفن في ثوب كذا أو يطين قبره أو يضرب على قبره قبة أو لمن يقرأ عند قبره شيئاً معيناً فهي باطلة، سراجية، وسنحققه''.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201400
تاریخ16-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں