بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیم کی تعمیر میں زکاۃ کی رقم دینا

سوال

سپریم کورٹ کے حکم پر جو ڈیم کے لیے چندہ جمع کیا جارہا ہے، کیا زکاۃ کی مد سے ہم دے سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ادائیگی زکاۃ کے لیے مستحقِ زکاۃ کو مالک بنانا ضروری ہے، زکاۃ کی رقم سے فلاحی کام ہسپتال، اسکول، کالج، مدرسہ، مسجد، کنواں وغیرہ کی تعمیر کروانا شرعاً جائز نہیں، اور نہ ہی تعمیر کی مد میں زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں ڈیم کی تعمیر  کے لیے قائم کردہ فنڈ میں  زکاۃ کی رقم سےحصہ ڈالنا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201368
تاریخ14-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں