بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج بدل کرنے والے کے اوصاف

سوال

کیا حجِ بدل کرنے والے کے لیے پہلے سے حج کیا ہوا ہونا ضروری ہے؟ یا کوئی بھی کرسکتا ہے؟

جواب

حج بدل کرنے والا شخص قابلِ اعتماد دین دار اور مسائلِ حجِ بدل سے واقف ہونا  چاہیے، عالم  اور پہلے سے حج کیا ہوا ہو تو زیادہ بہتر ہے، البتہ اگر اس نے پہلے حج نہ کیا ہو تو  بھی دوسرے کی طرف سے حجِ بدل کرنے سے حجِ بدل ادا ہوجائے گا۔  جیساکہ ''فتاوی ہندیہ'' میں ہے:

''والأفضل للإنسان إذا أراد أن يحج رجلاً عن نفسه أن يحج رجلاً قد حج عن نفسه، و مع هذا لو أحج رجلاً لم يحج عن نفسه حجة الإسلام يجوز عندنا و سقط الحج عن الآمر، كذا في المحيط. و في الكرماني: الأفضل أن يكون عالماً بطريق الحج و أفعاله و يكون حرًّا عاقلاً بالغاً، كذا في غاية السروجي شرح الهداية''. (كتاب المناسك، الباب الرابع عشر في الحج عن الغير، ١/ ٢٥٧، ط: رشيدية) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201336
تاریخ11-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں