بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل سے قرآن کریم کی آیات مٹانا

سوال

موبائل سے قرآنی آیات مٹانا شرعاً   کیسا ہے؟

جواب

موبائل میں قرآن  کریم کی آیات موصول ہوں  تو ان کو پڑھنے کے بعد یا ان سے نصیحت حاصل کرنے کے بعد  اگر ان کومٹانے (ڈیلیٹ) کرنے کی ضرورت درپیش ہو  تو اس کو مٹانے  میں شرعاً حرج نہیں ہے ؛ اس لیے کہ فقہاءِ کرام نے  ضرورت کی صورت میں  کاغذ  وغیرہ سے قرآنی آیات اور احادیث  کو مٹانے کی اجازت دی ہے؛ لہذا موبائل سے قرآن کریم کی آیات  مٹانے کی گنجائش ہے۔

''فتاوی عالمگیری'' میں ہے:

'' ولو محا لوحاً كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز''. (5 / 322، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ط: رشیدیه)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201330
تاریخ11-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں