بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گواہوں کی موجودگی میں ایک بار ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے

سوال

دو مسلمان گواہوں کے سامنے عورت اور مرد نے  ایجاب و قبول سے پہلے مہر کا ذکر اس طرح  کیا کہ: مرد نے عورت سے کہا کہ کل  حق مہر  جو مؤجل تھا  وہ ٹھیک ہے؟ عورت نے کہا : ہاں ہاں!  اس  کے بعد مرد نے تین دفعہ یہ کہا: پانچ ہزار مہر کے بدلہ میں تم نے مجھے اپنے نکاح میں قبول کیا؟  جس کے جواب میں عورت نے تین دفع کہا کہ: قبول ہے؛  اس کے فوراً بعد مرد نے تین دفعہ عورت سے کہا کہ میں نے تم سے نکاح کیا ؛ جس کے جواب میں عورت نے تین دفعہ "قبول کیا " کہا۔

پوچھنا یہ ہے کہ نکاح میں کوئی خرابی تو نہیں ہے؟ نکاح ہو گیا نا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نکاح منعقد ہو گیا ہے۔  نیز ملحوظ رہے کہ گواہوں کی موجودگی میں ایک بار ایجاب و قبول کرنا انعقادِ نکاح کے لیے  کافی ہے تین بار ایجاب و قبول کرنا  ضروری  نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201318
تاریخ10-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں