بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو یا تین افراد کے ہونے کی صورت میں اقامت کا حکم

سوال

جماعتِ ثانیہ میں دو یا تین یا زیادہ افراد ہیں تو اقامت کہیں گے یا نہیں؟ اور اس کی دلائل بھی ارسال کریں گے تو نوازش ہوگی!

جواب

مسجد میں جماعتِ ثانیہ مکروہِ تحریمی ہے، ہاں اگر کسی دوسری جگہ بغیر اعلان واہتمام کے جماعت ثانیہ ہو رہی ہو (اور اُس میں دو یا تین افراد ہوں) تو اس جماعت کے لیے بھی اقامت کہی جائے گی، جیسا کہ ''فتاوی عالمگیری'' کی عبارت سے مفہوم ہوتا ہے:

''الفتاوى الهندية'' (1/ 55)
'' مسجد ليس له مؤذن وإمام معلوم يصلي فيه الناس فوجاً فوجاً بجماعة فالأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة. كذا في فتاوى قاضي خان في فصل المسجد''.

بلکہ علماء نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر مقیم اپنے گھر میں تنہا نماز پڑھ رہا ہے تو بھی اقامت کہنا مستحب ہے، چناں چہ ''البحر الرائق'' میں ہے:

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 280)
'' (قوله: وندبا لهما) أي الأذان والإقامة للمسافر والمصلي في بيته في المصر ؛ ليكون الأداء على هيئة الجماعة''۔
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201310
تاریخ10-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں