بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنتِ مؤکدہ اور غیرِ مؤکدہ نماز پڑھنے میں فرق

سوال

سنّتِ مؤ کدہ اور غیرِ مؤکدہ کی نماز میں کوئی فرق ہے یا نہیں ہے ؟

جواب

سنتِ مؤکدہ اور غیر مؤکدہ میں ادائیگی کے اعتبار سے یہ فرق ہے کہ  جو سنت نماز یں ایک سلام سے چار رکعت منقول ہیں اور مؤکدہ ہیں ،ان کے اداکرنے کا وہی طریقہ ہے جو چار رکعت فرض کی ادائیگی کا ہے ، البتہ فرض کی آخری دورکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھی جائے گی اور سنت میں چاروں رکعتوں میں  سورۂ فاتحہ کے علاوہ کوئی اور سورت بھی ملائی جائے گی ،قعدۂ اولی میں تشہد پر اکتفا کیا جائے گااورتیسری رکعت میں ثناء نہیں پڑھیں گے۔ لیکن سنتِ غیر مؤکدہ اور نوافل میں ہر دو رکعت کی حیثیت مستقل نماز کی ہے ، اس لیے زیادہ  بہتر یہ ہے کہ ہر قعدہ میں تشہد کے ساتھ ساتھ درود بھی پڑھاجائے اور ہر قعدہ کے بعد اگلی رکعت میں ثناء اور تعوذ بھی پڑھے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201308
تاریخ10-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں