بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق شدہ لڑکی کی کفالت کس کے ذمہ ہے؟

سوال

بیٹی کو طلاق ہوگئی وہ گھر آگئی ،والد بھی برسر روز گار ہے اور اس کا بیٹا بھی تو اب پوچھنا یہ ہے کہ اس بیٹی کی کفالت کس کے ذمہ ہوگی؟ اور کون اس کے اخراجات برداشت کرے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیٹی کی کفالت اپنے والد کے ذمہ ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 614)

'' (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاً ۔۔۔ (لا يشاركه) أي الأب ولو فقيراً (أحد في ذلك كنفقة أبويه وعرسه) به يفتى ما لم يكن معسراً فيلحق بالميت، فتجب على غيره بلا رجوع عليه على الصحيح من المذهب إلا لأم موسرة، بحر. قال: وعليه فلا بد من إصلاح المتون جوهرة.

(قوله:كأنثى مطلقاً) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز، إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجةً''۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201291
تاریخ09-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں