بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث، دو بیٹے، چھ بیٹیاں

سوال

ایک گھر شہر میں ہے، چار گھر گاؤں میں ہیں، ایک کشتی ہے، اس کے حصہ دار دو بھائی چھ بہنیں ہیں، اس جائیداد میں بہنوں کو کتنا حصہ ملے گا؟ راہ نمائی فرما دیں!

جواب

اگر مذکورہ جائیداد ان بھائی، بہنوں کے والدین میں سے کسی کا ترکہ ہے اور ورثاء میں ان بھائی، بہنوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تو اس کی تقسیم کا  شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے اور اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو  تو قرضہ کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو ۱۰ حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے دو، دو حصے ہر ایک بھائی کو اور ایک، ایک حصہ ہر ایک بہن کو ملے گا۔

فیصد کے اعتبار سے 100% میں سے  20%  ہر ایک بھائی کو اور 10%   ہر ایک بہن کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201290
تاریخ09-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں