بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث۔شوہر،ماں، بیٹا، بیٹی

سوال

ایک عورت وفات پاجائے تو اس کے ورثاء کون کون ہوں گے؟ عورت کا شوہر، ایک بیٹا، ایک بیٹی،  ماں،  ساس اور چھ بہنیں ہوں، براہِ مہربانی عورت کے اصل وارثوں کے نام اور ان کے حصے بتادیں۔

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ عورت کے ورثاء اس کا شوہر، ایک بیٹا، ایک بیٹی اور   ماں ہے۔ مرحومہ عورت کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے اور اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو قرضہ کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو ۳۶ حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے ۹ حصے مرحومہ کے شوہر کو، ۶ حصے مرحومہ کی ماں کو، ۱۴ حصے مرحومہ کے بیٹے کو اور ۷ حصے مرحومہ کی بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی 100% فیصد میں سے25% فیصد  مرحومہ کے شوہر کو،16.667%   فیصدمرحومہ کی والدہ کو،38.88% فیصد مرحومہ کے بیٹے کو اور 19.44% فیصد مرحومہ کی بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201280
تاریخ08-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں