بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدالت سے لی ہوئی خلع کی عدت

سوال

 عدالت سے خلع لی ہے 2 جولائی 2018 کو ،اس کی عدت کیا ہوگی؟

جواب

خلع کی عدت بھی وہی ہوتی ہے جو طلاق کی ہوتی ہے، یعنی اگر بیوی حمل سے نہ ہوتو  تین حیض (ماہواریاں) اوراگر حمل سے ہو تو بچے کی پیدائش پر عدت ختم ہوجاتی ہے۔ البتہ مذکورہ عدالتی خلع سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب عدالتی فیصلہ دیکھنے یا اس کے مندرجات معلوم ہونے پر ہی دیا جاسکتا ہے ؛ کیوں کہ خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے جانبین کی رضامندی شرط ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201257
تاریخ07-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں