بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آئندہ سال کی زکاۃ کی نیت کرنا

سوال

ایک آدمی نے واجب زکاۃ سے زیادہ رقم ادا کردی، اب وہ چاہتا ہے  کہ زائد رقم میں آئندہ سال کی نیت کر لوں، کیا اس کے لیے ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کے ذمے زکاۃ کی ادائیگی کی مقدار تھوڑی بنتی ہو، اور ا س نے غلطی سے زیادہ زکاۃ دے دی، تو اس کے لیے یہ گنجائش ہے کہ وہ اس زائد مقدار کو آئندہ سال کی زکاۃ میں شمار کرلے۔

" المحيط البرهاني في الفقه النعماني" (2/ 293)
" ولو كان عند رجل أربعمائة درهم، فظن أن عنده خمسمائة درهم فأدى زكاة خمسمائة درهم. (140ب1) ثم ظهر أن عنده أربعمائة، فله أن يحتسب الزيادة للسنة الثانية"
.  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201246
تاریخ06-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں