بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھاڑ میں جا کہنے سے طلاق کا حکم

سوال

کون کون سے الفاظ سے طلاق ہوتی ہے؟ "بھاڑ میں جا" کہنے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

طلاق کے الفاظ کی دو قسمیں ہیں: صریح اور کنایہ۔ صریح الفاظ وہ ہیں جن کی وضع ہی طلاق دینے کے لیے ہو اور ان الفاظ سے طلاق کی نیت کے بغیر ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے، مثلاً: میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تجھے طلاق ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جن کی وضع طلاق دینے کے لیے نہ ہو  لیکن ان  میں طلاق کا احتمال ہو،  ان الفاظ سے طلاق کا وقوع نیت یا دلالتِ حال پر موقوف ہوتا ہے، اگر نیت کر لی جائے یا حالت دلالت کرے تو طلاق واقع ہو گی ورنہ نہیں، مثلاً: ''دفع ہو جا'' وغیرہ الفاظ۔

آپ نے سوال میں جس لفظ سے متعلق سوال کیا ہے یعنی ''بھاڑ میں جا''،  اس لفظ سے طلاق کے واقع ہونے کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے، اگر نیت ہو گی تو طلاق واقع ہو گی ورنہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201237
تاریخ05-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں