بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذہن میں آنے والے کفریہ خیالات کا حل

سوال

اگر کسی کے ذہن میں کفر کے خیالات آتے ہوں، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

ذہن میں صرف ایسے خیالات کے آنے سے کفر  نہیں ہو تا جب تک کہ دل میں ان کا یقین نہ بیٹھ جائے، یا وہ خیالات جگہ پکڑ لیں؛ لہٰذا ایسے خیالات کو جھٹک دینا چاہیے، ان کی  پروا نہیں کرنا چاہیے۔ دل میں کفریہ خیالات کے آنے پر انہیں برا سمجھنا ایمان کی نشانی بلکہ صریح ایمان ہے،  ایک حدیث میں ہے کہ کچھ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا کہ ہم اپنے دلوں میں بعض ایسے خیالات پاتے ہیں جنہیں زبان پر لانا ہم بہت گراں سمجھتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم یہ کیفیت پاتے ہو؟  صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو صریح ایمان ہے۔

'' عن أبي هریرة قال: جاء ناس من أصحاب رسول ﷺ إلی النبي ﷺ فسألوه: إنانجد في أنفسنا مایتعاظم أحدنا أن یتکلم به، قال: أوقد وجد تموه؟ قالوا: نعم! قال: ذاک صریح الإیمان''۔ (مشکوۃ المصابیح:۱؍۱۹)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201234
تاریخ05-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں