بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دورانِ نماز دل میں چھینک کا جواب دینا

سوال

کیا نماز کی حالت میں چھینک کاجواب دل میں دیاہو تو نماز فاسد ہوجاتی ہے؟

جواب

نماز کی حالت میں چھینکنے والے کو " یرحمک الله " کہا تو نماز فاسد ہوجائے گی، البتہ زبان سے تلفظ نہ ہو، بلکہ دل ہی دل میں کہہ دیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 620)
''و) يفسدها (تشميت عاطس) لغيره (بيرحمك الله ، ولو من العاطس لنفسه لا)، وبعكسه التأمين بعد التشميت۔

(قوله: بيرحمك الله) قيد به؛ لأن السامع لو قال: الحمد لله، فإن عنى الجواب اختلف المشايخ، أو التعليم فسدت، أو لم يرد واحد منهما لا تفسد اتفاقاً، نهر. وصحح في شرح المنية عدم الفساد مطلقاً ؛ لأنه لم يتعارف جواباً. قال: بخلاف الجواب السار بها أي بالحمد له للتعارف، (قوله: ولو من العاطس لنفسه لا) أي لو قال لنفسه: يرحمك الله يا نفسي لا تفسد ؛ لأنه لما لم يكن خطاباً لغيره لم يعتبر من كلام الناس، كما إذا قال يرحمني الله، بحر''۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201222
تاریخ04-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں