بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام آمدنی والوں کے ساتھ مشترکہ خرچہ میں سیر وتفریح کے لیے جانا

سوال

اگر پانچ لوگ اپنی فیملی کو لےکر ایک ساتھ پکنک کے لیے جا رہے ہوں جب کہ ان میں سے ایک اسلامک بینک میں ملازمت کر تے ہیں اور ایک غیر اسلامی بینک میں ، ہر فرد اپنی فیملی کے اخراجات خود اٹھا رہا ہے ، چوں کہ پیسے سب کے ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں تو کیا اس طرح جانا جائز ہے باقی  تین لوگوں میں سے دو کے بزنس ہیں جب کہ ایک  انشورنس کمپنی کے ریٹائرڈ ہیں، جہاں سے وہ پنشن لیتے ہیں اور اسی اکاؤنٹ میں ان کا ڈاکٹر بیٹا بھی پیسے بھیجتا ہے اپنی کمائی سے؟

جواب

بینک کا مدار سودی نظام پر ہے، اور  سود کا لینا دینا، لکھنا اور اس میں گواہ بننا سب ناجائز  اور حرام ہے، اور بینک  ملازم سود لینے ، دینے  یا لکھنے کے کام میں مصروف ہوتے ہیں  یا کم سے کم ان کاموں میں معاون ہوتے ہیں اور یہ سب ناجائز و حرام ہیں،لہذا بینک  کی ملازمت  ناجائز ہے  اور تنخواہ بھی حرام ہے، خواہ روایتی بینک ہوں یا مروجہ غیر سودی بینک ہوں ۔ اسی طرح انشورنس سود اور جوے کا مجموعہ ہے، جوکہ ناجائز اور حرام ہے، لہذا انشورنس ادارے میں ملازمت اور اس کی پنشن بھی حرام ہے۔

لہذا جن لوگوں کی آمدنی حرام ہے   تو حلال آمدنی والے افراد سیروتفریح میں کھانے میں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ، بلکہ اپنے کھانے وغیرہ کا الگ انتظام رکھیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143909201214
تاریخ03-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں