بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلی مارنے کا حکم

سوال

بلی کو مارنا کیسا ہے جب کہ اس سے بہت نقصان ہو، مرغی کے بچوں کو کھاتی ہو؟

جواب

عام حالات میں بلی یا کسی بھی جانور کو ستانا درست نہیں، بلکہ ایسا کرنا گناہ کا کام ہے۔ تاہم اگر کوئی بلی ایسی ہو جو موذی ہو اور تکلیف کا باعث بنتی ہو اور مرغی کے بچوں کی حفاظت کی  کوئی صورت نہ ہو تو ایسی بلی کو مار دینا جائز ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ایسے طریقے سے مارا جائے جس میں اسے زیادہ تکلیف نہ ہو، مثلاً: تیز دھار چھری یاگولی سے مار دیا جائے۔

" الهرة إذا كانت مؤذيةً لا تضرب ولا تعرك أذنها، بل تذبح بسكين حادٍّ، كذا في الوجيز للكردري. (الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهية، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات (5/361) ط:دار الفکر) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201212
تاریخ03-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں