بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سادات کا اپنے نام کے ساتھ سید یا علی لکھنا

سوال

جن  کی کاسٹ (ذات) سید ہو وہ اپنے نام کے آگے سید لکھتے ہیں اور آخر میں علی، کیا یہ درست ہے؟ اور علی کیوں لکھا جاتا ہے آخر میں؟ اگر نہ لکھیں یا نہ لگائیں نام کے ساتھ تو کوئی فرق تو نہیں پڑتا؟

جواب

 جو لوگ سادات ہوں یعنی ان کا تعلق سید خاندان سے ہو  تو وہ لوگ اگر اپنے نام کے ساتھ سید لگائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح وہ سادات جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسل سے ہوں وہ حضرات اگر اپنی علوی نسبت ظاہر کرنے کے لیے  اپنے نام کے آخر میں علی لکھیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، البتہ جو سادات  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے کسی اوربزرگ کی اولاد میں سے ہے مثلاً آل جعفر یا آل حارث وغیرہ  تو ان کے  لیے  اپنے نام کے ساتھ سید لگانے کی تو اجازت ہوگی،  لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت کرنے کے لیے  اپنے نام کے ساتھ علی لگانا درست نہیں ہوگا۔ 

البتہ سید   یا علی نام کے ساتھ لکھنا لازم نہیں ہے، اگر نہ لکھیں یا نہ لگائیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201193
تاریخ03-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں