بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نام سے پہلے عبد یا محمد لگانا

سوال

نام سے پہلے عبدل یا محمد لکھا جاتا ہے، اس کی کیا حیثیت ہے؟ اگر بچے کے نام سے پہلے محمد لگائیں تو کیا اثر پڑتا ہے؟

جواب

 اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے کسی نام پر اگر بچے کا نام رکھا جائے تو اس سے پہلے ’’عبد‘‘ (بمعنی بندہ) لگایا جاتا ہے، مثلا "الرحمٰن" اللہ تعالیٰ کا نام ہے،  اگر اس نام پر بچے کا نام رکھا جائے تو عبد لگانا لازمی ہوگا یعنی عبد الرحمٰن نام رکھا جائے گا، اور مطلب ہوگا رحمٰن کا بندہ، اللہ تعالیٰ کے ناموں کے علاوہ کسی اور نام کے شروع میں ’’عبد‘‘ لگا کر نام رکھنا درست نہیں ہے۔

کسی بھی نام سے پہلے ’’محمد‘‘  لگانا  باعثِ خیر و برکت ہے۔ باقی ’’محمد‘‘ نام  رکھنے کے جو اصل فضائل اور برکات ہیں وہ اس صورت میں حاصل ہوں گے جب صرف نام ہی محمد رکھا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201192
تاریخ03-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں