بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ دیتے وقت زکاۃ ہونے کی تصریح کرنا ضروری نہیں

سوال

کیا زکاۃ دینے والے کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکاۃ کے پیسے ہیں؟

جواب

زکاۃ دیتے وقت زکاۃ کی نیت ہونا شرط ہے،  جس کو زکاۃ دی جارہی ہے اس کو  بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکاۃ کے پیسے ہیں، بلکہ ہدیہ کا نام لے کر بھی زکاۃ کے پیسے دیے جاسکتے ہیں۔

الفتاوى الهندية (1/ 171)

''ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغي والقنية''۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201191
تاریخ02-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں