بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے گواہوں کا اجرت لینا

سوال

نکاح کرنے کے لیے دومسلمان مرد گواہوں کا ہونا شرط ہے تو کیا دو اجنبی عاقل بالغ مسلمان مردوں کوپیسے دے کر بھی اپنے نکاح کے لیے گواہ بنایاجاسکتاہے؟

جواب

نکاح کے لیے گواہ بنناشرعی شہادت ہے اور شرعی شہادت پراجرت لیناناجائزہے،البتہ اگر اجرت لے کر دومسلمان نکاح کے انعقاد میں گواہ بن جائیں تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔(کفایت المفتی 2/275دارالاشاعت)

لیکن شریعت نے نکاح میں اعلان اور عام لوگوں کے مجمع میں اس مجلس کے انعقاد کو پسند کیاہے،اس طرح کرائے کے گواہوں کی گواہی کے ساتھ نکاح کرناپسندیدہ نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201189
تاریخ02-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں