بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے پرانے سامان کو فروخت کرنے کا حکم

سوال

اگر مسجد کے لیے کوئی چیز خریدی جا ئے، (مثلاً:  قالین ہو یا موٹر وغیرہ) کچھ عر صہ بعد کوئی نئی اسی قسم کی خریدی جائے تو پُرانی چیز کی فروخت کے لیے کیا مسئلہہے؟ وہ ہر آدمی خرید سکتا ہے جب کہ مسجد  کو اب اُس کی ضرورت نہیں رہتی ؟

جواب

کسی مسجد کے لیے خریدی ہوئی اشیاء کو اسی مسجد میں استعمال کیا جانا ضروری ہے،  بغیر ضرورت قابلِ استعمال چیزوں کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے، البتہاگر اب اس چیز کی ضرورت نہ رہے اور رکھنے کی صورت میں اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے بازاری قیمت کے مطابق فروخت کرکے اس کی رقم اسی مسجد کی ضروریات میں خرچ کی جاسکتی ہے۔فروخت کی صورت میں کوئی بھی خرید سکتاہے ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201184
تاریخ02-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں