بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گروی رکھنا اور اس سے قرض خواہ کا اپنا حق وصول کرنا

سوال

 کوئی چیز گروی رکھ کر اس کے بدلے میں پیسے لینا اوروقت طے کرنا کہ اس وقتِ مقررہ پر پیسے نہ ادا کر سکنے کی صورت میں چیز اس کی،  اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ 

جواب

کسی سے قرض لے کر اس کے پاس کوئی چیز گروی رکھوانا جائز ہے، اور  جس کے پاس  کوئی  چیز گروی رکھی جائے وہ اس کا مالک نہیں ہوتا، نہ اس کو استعمال کرنے کی اجازت ہے، اگر اس دوران گروی رکھی ہوئی چیز سے استفادہ کیا تو یہ سود کے حکم میں اور ناجائزہوگا۔ لہٰذا  قرض کی مدّت پوری ہونے پر اولاً قرض خواہ کو چاہیے کہ مالک سے قرض کا مطالبہ کرے، اگر قرض وصول نہ ہو تو مالک کی اجازت سے اس چیز کو فروخت کرکے اپنا قرض وصول کرلے تو  شرعاً اس کی اجازت ہوگی، اور اس کے بعد اگر کچھ رقم بچ جائے تو  زائد رقم اس کو واپس کرنا ضروری ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201171
تاریخ02-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں