بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے مال میں زکاۃ کا حکم

سوال

نابالغ بچوں کی عیدی کے پیسوں پر اگر سال گزر جائے تو زکاۃ ہو گی؟  اگر ہو گی تو کس کے ذمہ ہو گی ؟

 اگر نابالغ بچی کے پاس سونے کے بالی ہے اور سال گزر گیا تو زکاۃ ہو گی ؟ اور کس کے ذمہ ہو گی؟

جواب

جس طرح نماز ،روزہ ، حج اور دیگر عبادات نابالغ پر فرض نہیں ہیں اسی طرح اس پر زکاۃ بھی فرض نہیں ہے ؛ لہذا اگر بچہ یا بچی  صاحبِ نصاب ہے، تب بھی نابالغ ہونے کی وجہ سے ان کے مال پر زکاۃ واجب نہیں ہوگی ، اور ولی کے ذمے بھی نابالغ کے مال سے زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201170
تاریخ02-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں