بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معلوماتی فلم (ڈاکیومنٹری) دیکھنا

سوال

 کچھ ادارے کسی خاص واقعہ پر ایک معلوماتی فلم (ڈاکیومنٹری) بناتے ہیں، اگر اس فلم میں موجود موسیقی و غیرہ کو حذف کردیا جائے تو کیا اس کا دیکھنا جائز ہے؟  اسی طرح بعض فلمیں جانوروں وغیرہ پر بنائی جاتی ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟ (مگر ان فلموں میں کہیں نہ کہیں خواتین کا کردار دکھاتے ضرور ہیں) ۔ اسی طرح صرف تفریح کی نیت سے مزاحیہ فلم دیکھنا وغیرہ ؟

جواب

تصویر کسی کی بھی جاندار کی  ہو اس کا بلا ضرورت بنانا، رکھنا،  دیکھنا قطعاًجائز نہیں ، اور خواتین کی تصاویر دیکھنے میں تو بد نظری کا گناہ بھی ہے، لہذا  کسی معلوماتی ڈوکیومینٹری فلم یا  مزاحیہ فلم میں جاندار کی تصاویر یا دیگر ممنوعات شامل ہوں تو اس کا دیکھنا جائز نہیں ہوگا۔ معلومات کتابوں اور دیگر  جائز ذرائع سے بھی حاصل ہو جاتی ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201145
تاریخ30-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں