بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی قضا کا حکم

سوال

میرا تعلق ضلع بنوں خیبر پختون خواہ سے ہے، جب کہ مسنون اعتکاف ادا کرنےکے لیے میں ضلع جھنگ پنجاب میں بیٹھا ،  چاند کی رؤیت میں اختلاف کی بنا پر رمضان کی آخری شب خیبر پختون خواہ کے بیشتر علاقوں میں اگلے دن عید کا اعلان ہو گیا جب کہ پنجاب میں نہیں ہوا ،تو میں تیسویں روزے    کی رات کو ہی نکل پڑا اور عید کی نماز اپنے علاقے میں ادا کی۔ اس صورتِ حال میں کیا میرا مسنون اعتکاف ادا ہو گیا ہے یا اس کی قضا مجھ پر لازم ہے؟

جواب

چوں کہ آپ نے ایک دن پہلے ہی اپنا اعتکاف ختم کردیاتھا ؛ اس لیے مسنون اعتکاف مکمل نہ ہوا۔اب اس اعتکاف کی قضا (یعنی  ایک دن کا اعتکاف روزے سمیت )لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201119
تاریخ29-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں