بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خالی دکان دے کر نصف نفع طلب کرنا

سوال

کسی کو اپنی خالی دکان اس شرط پر دینا کہ لینے والا جو کام کرے گا اس کا آدھا نفع دکان کے مالک کو دے ، کیا یہ صحیح ہے؟یااجارہ پر دکان دی جائے؟

جواب

خالی دکان دے کر اس میں کاروبار کرنے والے سے آدھے منافع کا مطالبہ درست نہیں، یہ معاملہ ناجائز ہے، اور اسے ختم کرناواجب ہے۔درست صورت یہ ہے کہ  دکان کو متعین کرایہ پر دے دیا جائے ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201106
تاریخ28-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں