بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی ادائیگی میں کس قیمت کا اعتبار ہوگا؟

سوال

کیا فرما تے ہیں علمائے کرام زکاۃ کے نصاب کے حوالے سے !قیمتِ خرید پر زکاۃ ادا ہوگی یا قیمت فروخت پر ؟ اگر قیمتِ فروخت پر تو فروخت کے مختلف دام ہیں، کم تعداد کے دام زیادہ ہیں، اور اگر کوئی زیادہ مال کی خریداری کرتا ہے تو اس کے دام کم ہیں! برائے کرم راہ نمائی فرما دیں زکاۃ کس ترتیب سے ادا ہوگی؟

 

جواب

سامانِ تجارت کی زکاۃ اس سامان کی قیمتِ فروخت کے حساب سے  واجب ہوگی، یعنی اس سامان کی  موجودہ بازاری قیمت (مارکیٹ  ریٹ) پر واجب ہوگی۔ مارکیٹ ریٹ سے مراد اس سامان کی  متوسط قیمت ہے۔ جو مال جس دام پر فروخت کردیا جائے اور وہ رقم محفوظ ہو تو زکاۃ کا سال مکمل ہونے پر دیگر قابلِ زکاۃ اموال کے ساتھ ملاکر زکاۃ ادا کی جائے گی، اور جو مال فروخت نہ ہوا ہو اس کی قیمت اسی بازار میں رائج قیمت کو دیکھ کر لگائی جائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 286)

'' وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعاً، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه، ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه، فتح''. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201088
تاریخ27-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں