بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تعمیر میں زکاۃ استعمال کرنا

سوال

زکاۃکاپیسہ تعمیری کام میں لگاسکتےہیں؟

جواب

زکاۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ کسی مستحق شخص کو زکاۃ کا مالک بنایاجائے،تعمیری کاموں میں زکاۃ کی رقم کااستعمال جائز نہیں ہے، اس سے زکاۃ ادا نہ ہوگی۔''فتاوی شامی'' میں ہے:

''ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكاً ) لا إباحةً، كما مر ( لا ) يصرف ( إلى بناء ) نحو ( مسجد و ) لا إلى ( كفن ميت وقضاء دينه )''(2/344)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201075
تاریخ26-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں