بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسنون ولیمہ

سوال

شادی کی رات شوہر اور بیوی نے ہم بستری نہیں کی، اگلے دن ولیمہ تھا. تو کیا یہ ولیمہ درست ہوا؟ ولیمہ کے لیے شوہر اور بیوی کا ہم بستری کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

ولیمہ کا اصل وقت تو شبِ زفاف کے بعد ہی ہے، البتہ اگر رخصتی کے بعد ہم بستری سے پہلے یا شبِ زفاف سے پہلے ولیمہ کر لیا گیا تو بھی ولیمہ کی سنّت ادا ہوجائے گی۔ بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ولیمہ شبِ زفاف کے بعد کیا، اور بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ شبِ زفاف سے پہلے کیا۔

''یجوز أن یؤلم بعد النکاح، أو بعد الرخصة، أو بعد أن یبنی بها، والثالث هو الأولی''۔ (بذل المجهود، کتاب الأطعمة، باب في استحباب الولیمة للنکاح، مطبع سهارن پور قدیم ۴/ ۳۴۵، دارالبشائر الإسلامیة بیروت ۱۱/ ۴۷۱، تحت رقم الحدیث : ۳۷۴۳) 
''وقت الولیمة عند العقد، أو عقبه، أو عند الدخول، أو عقبه، وهذا أمر یتوسع فیه حسب العرف والعادة، وعند البخاري أنه صلی اﷲ علیه وسلم دعا القوم بعد الدخول بزینب''۔ (فقه السنة، دارالکتاب العربي ۲/ ۲۱۰)

 

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (20/ 151)

'' وفيه فوائد: ... الثالثة: اتخاذ الوليمة في العرس، قال ابن العربي: بعد الدخول، وقال البيهقي: كان دخوله صلى الله عليه وسلم بعد هذه الوليمة''.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201065
تاریخ26-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں