بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیدہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

سوال

ہمارے نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں کیسے حیات ہیں؟ اور ہمارا کیا عقیدہ ہونا چاہیے؟

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے متعلق اہل السنۃ  والجماعۃ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ وہ اپنی قبروں میں جسدِ مبارک کے ساتھ حیات ہیں، ان کو وہاں ان کے رب کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور ان کے جسموں کو قبر کی مٹی نہیں کھا سکتی۔ 

علامہ ظفر احمد عثمانی (م 1394ھ)فرماتے ہیں:

'' فثبت أن حكم الآیة باق بعد وفاته صلى الله عليه وسلم، فینبغی لمن ظلم نفسه أن يزور قبره، ويستغفر الله عنده، فيستغفر له الرسول''.

(إعلاءالسنن ج10ص498)

علامہ عبد الرؤف مناوی (م1031ھ):

''(ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي)۔۔۔۔۔ (روحي) يعني رد علي نطقي ؛ لأنه حي على الدوام، وروحه لا تفارقه أبداً ؛ لما صح أن الأنبياء أحياء في قبورهم، (حتى أرد) غاية لرد في معنى التعليل: أي من أجل أن أرد، (عليه السلام)، هذا ظاهر في استمرار حياته؛ لاستحالة أن يخلو الوجود كله من أحد يسلم عليه عادة''.(فيض القديرج5ص596) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201062
تاریخ26-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں