بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دکان کی زکاۃ سامان کی مالیت پر ہے یا منافع پر؟

سوال

دکان کی زکاۃ سامان کی مالیت پر ہے یا منافع پر?

جواب

سامانِ تجارت کی قیمتِ فروخت پر زکاۃ واجب ہوتی ہے، لہٰذا جب زکاۃ کا سال مکمل ہو اس وقت دیکھ لیا جائے کہ دکان میں جتنا سامانِ تجارت موجود ہے، اس کی موجودہ بازاری قیمت اور ضرورت سے زائد جتنی رقم یا زیور ملکیت میں موجود ہو اس کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جائے تو اس  پر زکاۃ واجب ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201046
تاریخ25-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں