ٹوٹے ہوئے سینگ والے بکرے کی قربانی
سوال
ایک بکرا ہے، اس کی عمر ایک سال ہے، لیکن اس کے دونوں سینگ آدھے آدھے ٹوٹے ہوئے ہیں، کیا اس کی قربانی جائز ہے ؟
جواب
مذکورہ بکرے کی قربانی جائز ہے، سینگ کا آدھا ٹوٹا ہوا ہونا عیب نہیں ہے۔
"و کذا مکسورة القرن، بل أولیٰ لما قلنا."
(تبیین الحقائق، کتاب الأضحیة، مکتبه زکریا دیوبند ۶/ ۴۷۹، إمدادیه ملتان ۶/ ۵)
هندية، کتاب الأضحیة، الباب الخامس
"عن علي -رضی اﷲ عنه- قال: نهی رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم أن یضحي بأعضب القرن والأذن."
( جامع الترمذي ، الأضاحي، باب في الضحیة بعضباء القرن والأذن، النسخة الهندیة ۱/ ۲۷۶، دارالسلام رقم: ۱۵۰۴)
"ویضحي بالجماء هي التي لا قرن لها خلقة، وکذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالکسر أو غیره."
(الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الأضحیة، مکتبه زکریا دیوبند ۹/ ۴۶۷، کراچی ۶/ ۳۲۳)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

