بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسٹول بیگ لگے ہوئے شخص کی امامت

سوال

میں ایک حافظ عالم اور مفتی ہوں, اور الحمد للّہ ایک مسجد میں امام ہوں، 2015میں کچھ پیٹ کی بیماری ہوگئی تھی، ڈاکٹر نے اسٹول بیگ لگا دیا تھا، پھر ریڈیشن ہوئی تو 2017 مئی میں بڑی آنت کاٹ کر مستقل طور پر اسٹول بیگ لگا دیا، مگر اس آپریشن کے بعد پیشاب مستقل نکل رہا تھا، ڈاکٹر نے کہا کہ کچھ عرصہ میں ٹھیک ہو جائے گا، مگر میں نے یورولوجسٹ کو دکھا یا انھوں نے کچھ میڈیسن دی ہے، اس سے فرق پڑا کہ جاگتے ہوئے کچھ گھنٹے کنٹرول رہتاہے ، مگر سوتے وقت یورین بیگ لگانا پڑتاہے، اور اسٹول بیگ میں حاجت بھی اکثر رات میں ہوتی ہے،  کبھی کبھار دن میں بھی ہو جاتی ہے ۔

سوال یہ ہے  کہ آیا میں معذور کے حکم میں ہوں یا میں امامت کرسکتا ہوں؟ احتیاطاً میں تین سال سے امامت نہیں کر رہا ہوں۔ کچھ مسائل میں نے دارالافتاء کے مسائل میں پڑھے جس سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ میں شاید معذور کے حکم میں نہیں ہوں تسلی کے لیےمسئلہ پوچھا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شرعاً  آپ معذور کے حکم میں ہیں، اور غیر معذور پاک مقتدیوں کی امامت نہیں کرسکتے، اسٹول بیگ میں اگر چہ حاجت رات کو ہوتی ہے، لیکن اسے چوں کہ مستقل آپریشن کے ذریعہ لگادیا گیا ہے؛ اس لیے آپ حاملِ نجاست کے حکم میں ہوں گے۔ الفتاوى الهندية (1/ 84):

’’ولا يصلي الطاهر خلف من به سلس البول‘‘. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201038
تاریخ25-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں