نکاح میں سسر کا لڑکی کی طرف سے وکیل بننا
سوال
کیا لڑکی کا سسر نکاح میں لڑکی کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب
جائز ہے، تاہم یہ ملحوظ رہے کہ نکاح سے پہلے چوں کہ سسر محرم نہیں ہوتا ؛ اس لیے وہ اگر لڑکی کا پہلے سے کوئی محرم نہ ہو تو لڑکی کی اجازت کے لیے بے پردہ اس کے سامنے نہ جائے، بلکہ پس پردہ یا تحریری طور پر لڑکی اس کو نکاح کا وکیل بنادے ، اگر محرم ہوتو پھر سامنے جانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں.فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143909201037
تاریخ25-06-2018

