بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کے ترکہ کے زیور کی تقسیم

سوال

میری والدہ کا انتقال ہوگیا تھا، ان کا ایک زیور ( لاکٹ اور رنگ) میری بیوی کے پاس ہے جو ان کے انتقال کے بعد  میرے پاس تھا، میرے والد حیات ہیں اور دو بھائی بھی ہیں ، مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ اگر میں اس کی مالیت معلوم کرکے  اس کی ادائیگی کردوں تو صحیح ہے؟  اور اس میں میرے والد کا کتنا حصہ ہوگا اور ہم تین بھائیوں کا کتنا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  آپ کی والدہ کا مذکورہ ملکیتی زیور ان کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ ہے، جو ان کے شرعی وارثوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔اگر دیگر ورثاء راضی ہوں کہ آپ ان کوزیور کی قیمت اداکردیں تو پھر انہیں قیمت اداکرسکتے ہیں۔زیور کی تقسیم کاطریقہ یہ ہے کہ  اس کے چار حصے کرکے مرحومہ کے شوہر (آپ کے والد) کو ایک حصہ اور ہر ایک بیٹے کو بھی ایک ، ایک حصہ ملے گا، مثلاً: 100 روپے میں سے آپ کے والد کو 25 روپے اور آپ سب بھائیوں میں سے ہر ایک کو بھی 25، 25 روپے ملیں گے۔

تقسیم کی یہ صورت اس وقت ہے جب کہ آپ کی کوئی بہن والدہ کی وفات کے وقت حیات نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201021
تاریخ24-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں