بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی عدت

سوال

طلاق کی عدت تین حیض ہے، اگر کسی کو طلاق کے ایک ہفتے بعد حیض آجاۓ تو کیا وہ حیض شمار ہوگا؟اور کیا ٣حیض اگر ٣ مہینے سے پہلے ختم ہو جائیں تو عدت کی مدت پوری ہوجائےگی؟

جواب

طلاق کی عدت مکمل تین ماہواریاں ہیں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہوتو عدت وضع حمل ہے،  طلاق کے ایک ہفتہ بعد آنے والی ماہواری  عدت میں شمار ہوگی، اور تین مہینہ سے پہلے بھی تین حیض گزر جائیں تو عدت مکمل ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201015
تاریخ24-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں