بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید کی نماز کے بعد معانقہ کرنا

سوال

ہمارے ہاں ایک بڑی جامع مسجد ہے، جس میں تقریبا 50 سال سے نماز جمعہ اور عید کی نماز ہورہی ہے، بڑے بڑے علماء کرام نماز عید پڑھا چکے ہیں، لیکن اس سال ایک مولانا صاحب نے عید کے دن مسئلہ بتایا ہے کہ عید کے دن مسجد میں معانقہ کرنا بدعت ہے، یہ بات شرعی اعتبارسے اگر درست ہے، تو اس سے پہلے کسی عالم نے ایسا مسئلہ تو نہیں بتایا؟ دوسری بات یہ ہے کہ گلے ملنا اور مبارک باد دینے سے محبت اور اتفاق بڑھتا ہے، اس مسئلہ میں ہماری شرعی راہ نمائی فرمائیں!

جواب

عید کی نماز کے بعد معانقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں،البتہ لازم سمجھ کر کرنا درست نہیں۔

کفایت المفتی (3 /302)میں ہے:

''عیدین میں معانقہ کرنا یا عید کی تخصیص سمجھ کر مصافحہ کرنا شرعی نہیں، بلکہ محض ایک رسم ہے''۔(کتاب الصلاۃ،چھٹا باب:عیدین کی نماز،عنوان:عید کے دن گلےملنا، ط: دارالاشاعت، کراچی) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200979
تاریخ23-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں