استغفار کا مطلب اور اس کا طریقہ
سوال
استغفار کرنے کا صحیح طریقہ بتادیں ، صرف استغفر اللہ کہہ سکتے ہیں ؟
جواب
''استغفار'' کے معنی ہیں تو بہ کرنا یعنی اپنے گناہوں اور قصوروں کی معافی مانگنااور بخشش طلب کرنا، اور حقیقت اور روح یہ ہے کہ آدمی اپنے گناہوں کو سوچے، جنہوں نے اس کے نفس کو گھیر رکھا ہے، یعنی اس کو میلا اور گندہ کررکھا ہے اور پھر اسبابِ مغفرت اختیار کر کے نفس کو ان گناہوں سے پاک کرے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اول باری تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کرے، اور اس پر ندامت کا اظہار کرے، اور آئندہ گناہ نہ کرنے پکا عزم کرے اور اس کے بعد صدق دل سے توبہ واستغفار کرے، اور اس کے لیے کوئی بھی الفاظ جس سے اللہ سے معافی مانگنے کا معنی موجود ہو استعمال کیا جاسکتا ہے، اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے سچے دل سے ”أستغفر الله “ بھی کہا جاسکتا ہے، اور اس کے بہتر ین الفاظوں میں سے چند یہ ہیں أَسْتَغْفِرُ اللّٰه الَّذِيْ لَا اِلٰـه اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَیْه۔ اور رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّك أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

