بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کا شمار قمری مہینہ کے اعتبار سے ہے یا شمسی کے ؟

سوال

شوہر کے انتقال کے بعد  عدت اسلامی مہینوں کے اعتبار سے ہوگی یا انگریزی ماہ کے اعتبار سے؟

جواب

اگر شوہر کا انتقال قمری (اسلامی) مہینے کی ابتدا یعنی پہلی تاریخ میں ہو تو عدت چاند کے مہینوں کے اعتبار سے پوری کرنا لازم ہوگی، خواہ کوئی مہینہ انتیس کا ہی کیوں نہ ہو، اور اگر شوہر کا انتقال مہینے کے درمیان میں ہوا ہوتو   کل 130 دن عدت گزارنا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی (3/ 509) میں ہے:
'' في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوماً، وفي الوفاة بمائة وثلاثين''.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200971
تاریخ22-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں