بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناجائز آمدنی مسجد یا مدرسہ میں لگانا

سوال

ایک شخص کے دو کاروبار ہیں، ایک وہ ٹی وی چینل کا مالک ہے، جس پر ڈرامے ، میوزک اور خبریں چلتی ہیں۔ دوسرا اس کی کرکٹ ٹیم بھی ہے، ایسے مسلمان کی کمائی مسجد یا مدرسے میں لگانی صحیح ہے؟

جواب

اگر مذکورہ شخص کا ذریعہ آمدن صرف یہی دو کاروبار ہیں تو علم ہوتے ہوئے اس کی رقم مسجد یا مدرسے میں لگانامکروہ ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 658)

'' (قوله: لو بماله الحلال) قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالاً خبيثاً ومالاً سببه الخبيث والطيب فيكره ؛ لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله. اهـ. شرنبلالية''۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200943
تاریخ22-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں