بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاؤں میں جمعہ اور عیدین کا قیام

سوال

علاقہ تورغر کالاڈھاکہ کے گاؤں دوڑ میں جس کی آبادی تقریباً 50 یا 60 گھروں پر مشتمل ہے، جس میں بجلی کے علاوہ کوئی سہولت میسر نہیں، لیکن وہاں کے امامِ مسجد نے اس گاؤں میں جمعہ کی نماز شروع کی ہے، اور اب عید کی نماز بھی پڑھائی ہے کیا اس گاؤں میں جمعہ اور عیدین کی نماز جائز ہے؟

جواب

1۔ جمعہ جائزہونےکی شرائط میں سےشہر یا ایسے بڑےقصبے کا ہونا ضروری ہے، جہاں تمام ضروریاتِ  زندگی بآسانی دستیاب ہوں، ہسپتال، ڈاکخانہ، تھانہ وغیرہ کا انتظام ہو، اگر یہ گاؤں ایسانہیں ہےتواس گاؤں میں جمعہ کےدن ظہرکی نماز پڑھی جائے گی۔جمعہ اور عیدین کا قیام یہاں درست نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200934
تاریخ22-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں