بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جماعت نکل جائے تو مسجد نہ آئے

سوال

ایک مولانا صاحب بیان کر رہےتھے کہ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ مسجد میں جماعت کی نماز اتنے بجے ہوتی ہے اور وہ اپنی مصرفیات کی وجہ سے جماعت میں شریک نہ ہو سکا تو اب وہ شخص مسجد نا جائے نماز پڑھنے کے لیے، اگر وہ مسجد گیا نماز کے لیے تو وہ شخص گناہ گار ہو گا۔کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

اگر جماعت کا نکل جانا یقینی ہے تو مسجد جانا ضروری نہیں، گھر ہی میں ادا کرلیں؛ تاکہ جماعت کا نکل جانا اور لوگوں پر ظاہر نہ ہو ، لیکن اگر گھر میں کسی وجہ سےنماز پڑھنا ممکن نہ ہو، یا مشکل ہو تو مسجد جاکر ادا کرلے۔ غالباً مولاناصاحب کا منع کرنا اس لیے ہوگا کہ جماعت کاقصداً ترک کرنا گناہ ہے، اور گناہ کا اظہار بھی گناہ ہے، اس اعتبار سے ان کی بات بھی درست ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200928
تاریخ22-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں