بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیمائی سونے کو اصل سونا بتاکر فروخت کرنا

سوال

کیمیائی عمل سے تیار  ہونے والے سونے کو سونا بتا کر بیچنا کیسا ہے؟

جواب

سونا  قدرتی معدنیات میں سے ہے،  لہذا سونے کے  زیورات وغیرہ بناتے وقت ا س کی مضبوطی کے لیے اس کے ساتھ کسی دھات کو معمولی مقدار میں شامل کرنا جو عرف میں رائج ہو، یہ شرعاً درست ہے۔
لیکن مختلف دھاتوں کو ملا کربذریعہ  کیمیکل سونے کی شکل دینا یاچاندی،   تانبا  وغیرہ مختلف دھاتوں پر سونے کا پانی (یالہر) چڑھاکر انہیں سونا بتاکر  فروخت کرنادھوکا دہی اور شرعاً ناجائز ہے۔

واضح رہے کہ ہمارے بلاد میں آج کل عموماً مختلف دھاتوں کو ملاکر کیمیکل کے ذریعے سونے کی شکل دینے کو کیمیائی سونا بنانا کہا جاتاہے، مذکورہ حکم اسی کے مطابق ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200904
تاریخ21-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں