بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل پر انسانی تصاویر دیکھنے کا حکم

سوال

کیا موبائل پر انسانی تصاویر دیکہنا بھی ناجائز ہے?

جواب

جی ہاں! جاندار اشیاء کی تصاویر موبائل پر دیکھنا  بھی جائز نہیں ہے۔

 تصویر  اگر عورت کی ہے یا اس میں کسی کا ستر واضح ہو تو  اس میں بد نظری   کا گناہ بھی ہوگا۔ اور اگر تصویر  عورت کی نہ ہو، اور اس میں کسی کا ستر  نظر نہ آرہا ہو  لیکن دیکھ کر فرحت یا لذت محسوس ہو تو بھی ناجائز ہے کہ حرام چیز کو دیکھ کر خوش ہونا بھی ناجائز ہے، اسی لیے تصاویر کو تلف کرنے کا حکم ہے۔البتہ اگر ارادے کے بغیر اس پر نگاہ پڑ جائے تو اس میں حرج نہیں۔

الدُّرِّ الْمُخْتَارِ کِتَابُ الْاَشْرِبَةِ:

''وَحَرُمَ الْاِنْتِفَاعُ بِالْخَمْرِ وَلَوْ لِسَقي دَوَابٍ أَوْ لِطِیْنٍ أَوْ نَظْرٍ لِلتَّلَهي'' .

ترجمہ: شراب سے نفع اٹھانا حرام ہے، اگرچہ چوپایوں کو پلانے، گارے میں ملانے کے لیے ہو یا محض لذت کے طور پر دیکھنے کے لیے ہو۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200895
تاریخ20-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں