بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رایان نام رکھنا

سوال

''رایان'' بچے کا نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

درست نام ''ریان'' (راء کے بعد الف نہیں ہے) ہے،اور اس کے معنی ہیں:1۔ سیراب ہونے والا۔ 2۔ریان جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازہ جس سے روزہ داروں کو داخل کیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے:

'' عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن في الجنة باباً يقال له: "الريان"، يدخل منه الصائمون يوم القيامة، لا يدخل معهم أحد غيرهم، يقال: أين الصائمون؟ فيدخلون منه، فإذا دخل آخرهم أغلق فلم يدخل منه أحد »''.(صحیح مسلم،باب فضل الصیام:۳ /۱۵۸، رقم الحدیث:۲۷۶۶،ط:دارالجیل،بیروت)

لہذا ''رایان'' کے بجائے ''ریان'' نام رکھا جائَے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200889
تاریخ20-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں